روس کی نجی کمپنی کا مال بردار جہاز ایم وی\’ کرسٹل سینٹ پیٹرزبرگ\’ چین سے کارگو لیتا ہوا جمعرات کو کراچی کی بندرگاہ پہنچا۔ اس موقع پر مقامی ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں کئی وزراء، ایران، انڈونیشیا، عمان و دیگر ممالک کے سفارتکار اور نامور کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔
اس گیم چینجر اقدام کے نتیجے میں دونوں ملکوں سے اشیاء کی اب براہ راست درآمد اور برآمد ممکن ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی تاجروں کیلئے بی ٹو جی اور بی ٹو بی بزنس بڑھانے کے زیادہ مواقع میسر آسکیں گے۔
روس میں پاکستان کے سابق سفیر قاضی خلیل اللہ نے روس کی نیکو لائن کے جہاز کی آمد کو یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحری تجارت کا آغاز دونوں ملکوں کے تعلقات میں تاریخ ساز نوعیت کا حامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ آزاد تجارت کا جامع معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ٹیرف کم ہوسکے، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت 20 ارب ڈالرسالانہ تک بڑھائی جاسکے۔
پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی، دفاعی اور معاشی تعلقات پچھلےایک عشرے میں نسبتا زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ روس نے حال ہی میں پاکستان کو بڑے پیمانے پر گندم فراہم کی ہے۔ صرف پچھلے سال درآمد کی گئی گندم کی مقدار دس لاکھ ٹن سے زائد تھی۔
Pak Russia Trade
